مہر خبررساں ایجنسی، پروفیسر تنویر حیدر نقوی: کبھی کبھی ناممکنات کی دنیا میں توقعات سے ہٹ کر "غیب" کی طرف سے کسی ستم رسیدہ کی داد رسی اس طرح سے ممکن ہو جاتی ہے کہ ستم توڑنے والے آپس میں ہی ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ "وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ" (اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کر دیتے ہیں، ان اعمال کے سبب جو وہ کماتے رہے۔) قدرت کے اس طرح کے عجب فیصلوں کی روشنی میں بعض اوقات کسی کمزور اور نحیف کے حق میں حالات اس طرح سے پلٹا کھاتے ہیں کہ اس کے دشمن، جو بظاہر اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتے ہیں، خود ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آراء ہو جاتے ہیں اور پھر وہ ایک دوسرے کو اس قدر کمزور کرتے چلے جاتے ہیں کہ اس زور آزمائی کے نتیجے میں وہ شخص یا قوم، جو کچھ عرصہ پہلے تک تنہاء اور بے بس دکھائی دیتی تھی، رفتہ رفتہ طاقت پکڑتی جاتی ہے اور پھر ایک ایسا بھی وقت آتا ہے، جب وہ قوم پلٹ کر اپنے دشمن پر ایسا غیر متوقع وار کرتی ہے، جس سے اس کا دشمن بوکھلا جاتا ہے اور پھر ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے، جسے سن کر دنیا اس کا مذاق اڑاتی ہے۔
ایران کی گذشتہ ربع صدی کی تاریخ کو اگر اسی زاویے سے دیکھا جائے تو "نائن الیون" کے بعد شروع ہونے والی امریکہ کی افغانستان اور عراق سے جنگیں ایک حیران کن تاریخی مثال بن کر سامنے آتی ہیں۔ طالبان نے افغانستان میں اور صدام حسین نے عراق میں انتہائی سخت اور ظالمانہ طرزِ حکومت قائم کیا اور بے شمار انسانی حقوق پامال کیے۔ دوسری طرف امریکہ کی مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی پالیسی بھی کئی دہائیوں سے جنگوں، مداخلتوں، حکومتوں کی تبدیلی اور طاقت کے استعمال سے عبارت رہی ہے۔ مگر تاریخ کا عجیب کھیل دیکھیے کہ ایک طرف طالبان ایران کے دشمن تھے، دوسری طرف صدام حسین کا عراق ایران کا دیرینہ اور خونخوار حریف تھا اور پھر وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ دونوں محاذوں پر ایران کے دشمن خود امریکہ کے ساتھ جنگ میں الجھ گئے۔ ایران نے یہ جنگیں شروع نہیں کی تھیں، لیکن ان جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نئی طاقت کی بساط پر ایران نے سب سے زیادہ تزویراتی فائدہ اٹھایا۔ یہی نائن الیون کے بعد کی تاریخ کا شاید سب سے حیران کن پہلو ہے۔
اس داستان کو سمجھنے کے لیے ہمیں چند قدم پیچھے جانا ہوگا۔ 1979ء کا انقلاب ایران کے لیے محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا۔ شاہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران ایک ایسے انقلابی دور میں داخل ہوا، جس نے عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات مکمل طور پر بدل دیئے۔ امریکہ ایران کا شدید مخالف بن گیا۔ مغربی دنیا میں ایران تنہائی کا شکار ہوا۔ ابھی انقلاب کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ 1980ء میں صدام حسین کے عراق نے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایران ایک ایسی جنگ میں داخل ہوگیا، جو تقریباً آٹھ سال جاری رہی۔ اس جنگ میں لاکھوں انسان مارے گئے اور ایران کو بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے باوجود ایرانی ریاست نے اپنی بقا برقرار رکھی۔ لیکن ایران کے لیے خطرہ صرف مغرب یا عراق تک محدود نہیں تھا۔ اس کے مشرق میں افغانستان میں بھی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے۔ طالبان کے افغانستان میں ابھرنے کے بعد ایران اور طالبان کے تعلقات انتہائی خراب ہوگئے۔ دونوں کے درمیان مذہبی، سیاسی اور جغرافیائی اختلافات موجود تھے۔
طالبان کے سخت گیر نظریئے اور ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے درمیان شدید اختلاف تھا۔ 1998ء میں یہ کشیدگی ایک خطرناک مقام تک پہنچ گئی۔ طالبان جنگجوؤں نے مزارِ شریف میں ایرانی قونصل خانے پر قبضہ کیا اور وہاں موجود ایرانی سفارت کاروں اور ایک صحافی کو شہید کر دیا۔ ایران میں اس واقعے نے شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ ایرانی فوج نے افغانستان کی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر اجتماع کیا اور دونوں ممالک جنگ کے انتہائی قریب پہنچ گئے۔ یوں ایران کے مغرب میں صدام حسین کا عراق تھا اور مشرق میں طالبان کا افغانستان۔ ایک طرف وہ ملک جس نے ایران پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی تھی، دوسری طرف وہ طاقت جس کے ساتھ ایران تقریباً جنگ کے دہانے تک پہنچ چکا تھا۔ ایران ایسے میں بظاہر دو خطرناک محاذوں کے درمیان گھرا ہوا تھا۔ لیکن پھر تاریخ نے ایک ایسا موڑ لیا، جس کا شاید تہران نے بھی تصور نہیں کیا ہوگا۔ 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ پر القاعدہ نے حملہ کیا۔ اس حملے نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو جنگ کے راستے پر ڈال دیا۔
امریکہ افغانستان پہنچا۔ طالبان حکومت ختم کر دی گئی اور یہاں تاریخ نے وقت کے زندان میں بند ایران کے لیے پہلا دروازہ کھول دیا۔ جس طالبان حکومت کے ساتھ ایران کے تعلقات انتہائی خراب تھے، وہ امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اقتدار سے باہر ہوگئی۔ مگر اصل حیرت ابھی باقی تھی۔ اگر افغانستان کی جانب سے ایران کے لیے ایک دروازہ کھلا تو عراق نے ایران کے لیے اس سے کہیں بڑا تزویراتی باب کھول دیا۔ 2003ء میں امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا۔ صدام حسین کی حکومت ختم ہوگئی۔ یہاں چشم فلک نے جو کچھ دیکھا، اس کے مطابق ایران نے صدام حسین کو شکست نہیں دی، امریکہ نے دی۔ ایران نے عراق میں امریکی فوج نہیں اتاری، امریکہ نے اتاری۔ ایران نے بغداد پر بمباری نہیں کی، امریکہ نے کی۔ لیکن جنگ کے اختتام پر جو سب سے زیادہ مضبوط اور محفوظ ہوا، وہ صدام حسین کا دشمن ایران تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل برینٹ اسکاوکرافٹ نے ایک دفعہ واضح طور پر کہا تھا کہ ایران امریکی مشرق وسطیٰ کی سرگرمیوں کا beneficiary بنا، کیونکہ امریکہ نے ایران کے ایک بنیادی دشمن کو خود ختم کر دیا تھا۔
یہ اعتراف اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ کسی ایرانی تجزیہ کار کا نہیں بلکہ ایک انتہائی ممتاز امریکی اسٹریٹیجک مفکر کا تھا۔ برینٹ اسکاوکرافٹ کی بات ایک طرف، بعد میں خود صدر باراک اوباما نے بھی عراق جنگ کے سب سے بڑے علاقائی beneficiary کے طور پر ایران کی نشاندہی کی۔ Barack Obama نے 5 اگست 2015ء کو ایران جوہری معاہدے کے دفاع میں اپنی تقریر کے دوران عراق جنگ کے نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا: “The single greatest beneficiary in the region of that war was the Islamic Republic of Iran.” اور فوراً وجہ بھی بتائی: “Iran… saw its strategic position strengthened by the removal of its longstanding enemy, Saddam Hussein.” یعنی یہ شاید ہمارے مضمون کے لیے سب سے فیصلہ کن امریکی حوالہ ہے، کیونکہ یہ ایک سابق امریکی صدر کا باقاعدہ سرکاری خطاب ہے۔خود امریکی صدر، امریکی جنرل، سابق اعلیٰ امریکی سفارت کار، امریکی دفاعی صحافی اور امریکی خارجہ پالیسی کے بڑے ماہرین نے مختلف الفاظ میں تسلیم کیا کہ عراق اور افغانستان میں امریکی جنگوں کے نتیجے میں ایران کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔
یہاں ہم موضوع کے حوالے سے کچھ اور اہم شخصیات کے بیانات قارئین کے ذوق مطالعہ کی نذر کرنا چاہیں گے: جنرل برینٹ اسکاوکرافٹ (Brent Scowcroft) جو امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اور صدور جیرالڈ فورڈ اور جارج ایچ ڈبلیو بش کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر رہ چکے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ عراق پر امریکی حملے اور صدام حکومت ختم کرنے سے ایران کو کتنا فائدہ ہوا، تو ان کا جواب تھا: “I don’t think there’s any question that Iran has been a beneficiary of our activities in the Middle East." اور پھر انہوں نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: “One of their principal adversaries has been Iraq… we removed that enemy.” یہ حوالہ خاص طور پر اس لیے مضبوط ہے، کیونکہ یہ کسی صحافی یا سیاسی کارکن کا نہیں بلکہ امریکی قومی سلامتی کے انتہائی اعلیٰ درجے کے سابق فوجی ماہر کا تجزیہ ہے۔ رچرڈ ہاس، امریکی محکمہ خارجہ میں پالیسی پلاننگ کے ڈائریکٹر اور بعد میں Council on Foreign Relations کے صدر رہے۔ انہوں نے عراق کے حوالے سے کہا: “The great strategic beneficiary of the Iraq War” اور وضاحت کی کہ انہیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ عراق کے خاتمے کے بعد: “Iran would benefit from no longer having a country like Iraq to offset it.” پھر انہوں نے خلاصے کے طور پر جو جملہ لکھا، وہ بہت زیادہ معنی خیز ہے: “So Iran has been the great strategic gainer of the last couple of decades.”
"Peter W. Galbraith" سابق امریکی سفیر برائے کروشیا اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار ہیں۔ انہوں نے New York Review of Books میں نہایت واضح الفاظ میں لکھا: "Iran is the major beneficiary of the American-induced changes in Iraq since 2003." گالبریتھ نے یہ بھی وضاحت کی کہ صدام کے خاتمے کے بعد ایرانی حمایت یافتہ سیاسی و عسکری قوتیں عراق کے نئے نظام میں داخل ہوئیں اور ایران کا اثر بڑھتا گیا۔ "Thomas E. Ricks" واشنگٹن پوسٹ کے سابق فوجی امور کے رپورٹر اور "فارن پالیسی" کے سابق ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے عراق جنگ کے بارے میں صاف لکھا: "Iran has been the big winner in this war." اور بعد میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "Iran has certainly done well, and is more powerful than it was in 2003."
"David Petraeus" عراق جنگ کے دوران امریکی افواج کے اہم ترین کمانڈروں میں سے تھے۔ "بروکنگز" کے سینیئر ماہر "بروس ریڈل" نے 2008ء میں لکھا کہ جنرل پیٹریئس نے کانگریس کو اپنی بریفنگ میں ایران کا ذکر 105 مرتبہ کیا اور اس طرح اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ایران عراق کے نئے منظرنامے میں انتہائی اہم طاقت بن چکا ہے۔ اس کے مضمون کا عنوان تھا: "Iraq, Petraeus, Iran: Coming to Grips with Reality" ریڈل نے صاف لکھا کہ پیٹریئس کی بریفنگ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ: "Iran is the big winner of the American decision to invade and occupy Iraq." CNN کے جنگی نمائندے Michael Ware نے امریکی حملوں کے مجموعی نتیجے کو اس طرح بیان کیا کہ: صدام حسین کو ہٹانا اور اس سے پہلے طالبان کو ہٹانا، دونوں واقعات تہران کے لیے ایک طرح کا "تحفہ" ثابت ہوئے۔ افغانستان کے بارے میں بھی امریکی/مغربی شواہد موجود ہیں۔ یہاں ایک اہم فرق رکھنا چاہیئے۔ عراق کے بارے میں امریکی ماہرین کے بیانات بہت زیادہ واضح اور کثرت سے ملتے ہیں، جبکہ افغانستان کے بارے میں زیادہ مضبوط شواہد پالیسی تجزیوں اور امریکی سرکاری اداروں سے ملتے ہیں۔
"USIP" کے "Iran Primer" نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں طالبان کے خاتمے کو ایران کے لیے "an unintended strategic gift from Washington" قرار دیا۔ ان تمام حوالوں سے جو بڑی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے، اس کے مطابق یہ ایران کے تشکیل کردہ محاذ نہیں تھے، بلکہ یہ امریکہ کی جنگیں تھیں، لیکن تاریخ کا عجیب مذاق یہ ہے کہ جن دو دشمنوں کو امریکہ نے اپنے دو بڑے محاذوں پر شکست دی، وہی ایران کے دو بڑے علاقائی دشمن تھے۔ افغانستان میں طالبان گرے، عراق میں صدام گرا اور تہران کے سامنے سے دو بڑی رکاوٹیں یکے بعد دیگرے ہٹتی چلی گئیں۔ یہاں تاریخ ایک عجیب سوال پوچھتی ہے۔ اگر امریکہ ایران کا دشمن تھا تو اس نے ایران کے دو بڑے دشمن کیوں ختم کر دیئے۔؟ جواب اس کا یہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ اپنے منصوبہ سازوں کے مطابق نتائج نہیں دیتیں۔ جنگ کا آغاز ایک مقصد سے کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے نتائج کسی بالکل دوسرے فریق کے حق میں نکل سکتے ہیں۔ امریکہ نے دشمن گرائے، ایران نے خلا پُر کیا۔
صدام حسین کے خاتمے کے بعد عراق میں ایک نیا سیاسی نظام وجود میں آیا۔ اس نئے عراق میں وہ شیعہ سیاسی قوتیں ابھر کر سامنے آئیں، جن کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور سیاسی روابط تھے۔ ایران نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ عراق میں اس کا سیاسی قد کاٹھ بڑھا۔ عراقی شیعہ مقاومتی جماعتوں کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ بغداد تہران کے لیے ایک زیادہ قابلِ رسائی دارالحکومت بن گیا اور پھر یوں عراق صرف ایران کے لیے ایک ہمسایہ ملک نہیں رہا، بلکہ ایران کی علاقائی تزویراتی گہرائی کا اہم حصہ بن گیا۔ یہ وہ چیز تھی، جو صدام حسین کی موجودگی میں تصور کرنا بھی مشکل تھی۔ ایک طرف امریکہ کی قربانیاں، دوسری طرف ایران کی پیش قدمی۔ یہاں نائن الیون کے بعد کی پوری تاریخ کا ایک تضاد سامنے آتا ہے، جو امریکہ کے لیے انتہائی تلخ تھا۔ امریکہ نے افغانستان میں تقریباً دو دہائیاں گزار دیں، عراق میں ایک طویل جنگ لڑی۔ ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے۔ کھربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ امریکی معاشرے اور معیشت پر اس جنگ کا بوجھ پڑا اور دوسری طرف ایران نے نسبتاً کم براہِ راست قیمت ادا کرتے ہوئے ان جنگوں سے پیدا ہونے والے علاقائی خلا سے فائدہ اٹھایا۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایران نے صرف امریکہ کی وجہ سے طاقت حاصل کی۔ ایران کی اپنی ریاستی حکمت عملی، سپاہ پاسداران، علاقائی اتحادی، حزب اللہ کے ساتھ تعلقات، شام کے ساتھ اتحاد اور طویل مدتی جغرافیائی سیاست اس کی طاقت کے بنیادی عوامل تھے۔ لیکن یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان امریکی جنگوں نے ایران کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا، جس میں اس کی علاقائی حکمت عملی کو غیر معمولی وسعت ملی۔ ایران اب ایک نئی صورت میں اپنے دشمنوں کے مقابل آچکا تھا۔ جنوری 2002ء میں صدر جارج ڈبلیو بش نے ایران کو عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ "Axis of Evil" (محور شر) قرار دے دیا اور صرف ایک سال بعد امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا۔ لیکن اس حملے کے بعد عراق سے امریکہ کا پرانا اتحادی صدام حسین فرار ہوا اور ایرانی اثر و رسوخ مزید اندر تک پہنچ گیا۔ تاریخ نے گویا واشنگٹن کے فیصلے کو الٹا کر دیا۔ جسے امریکہ نے ایران کو گھیرنے کے لیے استعمال کرنا چاہا، وہی جنگ ایران کے لیے ایک نئی جغرافیائی گنجائش بن گئی۔
پھر شام آیا۔ 2011ء کے بعد شام کی جنگ نے ایران کے علاقائی کردار کو مزید اہم بنا دیا۔ ایران نے بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کی، حزب اللہ اور دیگر اتحادی قوتوں کے ذریعے اپنا اثر برقرار رکھا۔ یوں ایران کے لیے عراق صرف ایک اختتام نہیں بلکہ ایک راہداری بن گیا۔ عراق، شام اور لبنان کے درمیان ایران کے اثر و رسوخ کی جو زنجیر بنی، اسے بعد کے برسوں میں ایران کی "strategic depth" کے طور پر دیکھا گیا۔ یہاں بھی نائن الیون کے بعد کے واقعات کا بالواسطہ اثر نظر آتا ہے۔ امریکہ نے جس خطے میں طاقت کا پرانا توازن توڑا، ایران نے اس نئے توازن میں اپنے لیے جگہ بنا لی۔ یہ جو کچھ بھی ہوا، کوئی اسے محض جغرافیائی سیاست کہے گا۔ کوئی اسے تاریخ کا اتفاق سمجھے گا اور کوئی اسے قدرت کا ایسا فیصلہ قرار دے گا، جس میں ایک کمزور ملک کے دشمن خود ایک دوسرے سے ٹکرا گئے اور آج وہ مرحلہ آچکا ہے، جہاں ایران ایک ایسی امریکی طاقت کے سامنے کھڑا ہے، جسے دنیا اب بھی یا کبھی سب سے بڑی فوجی طاقتوں میں شمار کرتی تھی، جبکہ اسرائیل ایک جوہری طاقت ہونے کے باوجود ایران کو آسانی سے زیر نہیں کر پا رہا۔
کوئی اگر اسے امریکہ کی شکست نہ بھی کہے، تب بھی اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ایران میدان چھوڑ کر بھاگنے کی بجائے اپنے سے کہیں بڑی عسکری طاقت کے مقابل ڈٹا ہوا ہے اور یہ وہ مقام ہے، جس کا تصور 1979ء کے بعد کے کمزور، تنہاء اور جنگ زدہ ایران کے بارے میں شاید بہت کم لوگوں نے کیا ہوگا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے اپنی ہی پیدا کیے ہوئے دہشت گردوں کی دہشت گردی کے خلاف ایک عظیم جنگ شروع کی۔ اس جنگ کا مقصد امریکہ کو محفوظ بنانا اور اس کے دشمنوں کو ختم کرنا تھا۔ لیکن تاریخ کے حساب میں ایک عجیب نتیجہ بھی شامل ہے: امریکہ افغانستان اور عراق کو سزا دینے کے بعد ایران کو آج کا "وینزویلا" بنانا چاہتا تھا۔ لیکن "ورلڈ ٹریڈ سینٹر" کے زمیں بوس ہونے کے بعد اس نے جو کچھ اپنی حفاظت میں کیا، وہ ایران کو اور زیادہ مستحکم کرنے کا سبب بنا۔ یہی نائن الیون کے بعد کی تاریخ کا سب سے بڑا "paradox" ہے۔
نائن الیون کی 25ویں برسی پر ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیئے کہ: 11 ستمبر کو امریکہ پر حملہ کیوں ہوا؟ بلکہ ایک اور سوال بھی پوچھنا چاہیئے: "اس حملے کے بعد امریکہ نے جو جنگیں شروع کیں، ان کا حتمی جغرافیائی فائدہ کس کو پہنچا؟" اور اگر قدرت کے اس فلسفے کو سامنے رکھا جائے، جس سے ہم نے اس داستان کا آغاز کیا تھا تو ہم آخر میں اسے پھر اس طرح دہرائیں گے کہ: کبھی کبھی کمزور کی مدد کے لیے کوئی فرشتہ آسمان سے نہیں اترتا، حالات اس کے دشمنوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں اور تاریخ میں ایران کی گذشتہ تقریبا نصف صدی کی داستان اسی عجیب حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے کہ جن دشمنوں سے ایران خود لڑ کر شاید تھک جاتا، انہیں تاریخ نے ایک دوسرے سے لڑوا دیا اور جب دھول بیٹھی تو ایران پہلے سے زیادہ طاقتور کھڑا تھا۔ یہی نائن الیون کے بعد کی تاریخ کا سب سے حیران کن سبق ہے۔
آپ کا تبصرہ